Wednesday, May 13, 2020
Sunday, December 29, 2019
2 LINE POETRY
ادا مطلب نگاہ مطلب زبان مطلب بیان مطلب
بتا صاحب کہاں جاؤں جہاں جاؤں وہاں مطلب
........................................................
ﺟﺐ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ
ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ _ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺒﻬﯽ ﺗﻬﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ _ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺒﻬﯽ ﺗﻬﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
.........................................................
ظلم بس ظلم ہی نہیں ہوتا
ظلم سہنا بھی ظلم ہے ناداں
ظلم سہنا بھی ظلم ہے ناداں
.........................................................
ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا
ہم کو ہر بات پر ملال ہوا۔۔۔!!
ہم کو ہر بات پر ملال ہوا۔۔۔!!
..........................................................
داسی تم پے گزرے گی تو تم بھی جان جاؤ گے
کے کتنا درد ھوتا ھے نظر انداز کرنے سے
............................................................
مِری وفا مجھے کوفے میں گھیر لائی ہے
صلائے عام ہے مجھ کو دغا دیا جائے !!
صلائے عام ہے مجھ کو دغا دیا جائے !!
.............................................................
باز رہتے ہیں جو محبت سے
ایسے احمق ذہین ہوتے ہیں
ایسے احمق ذہین ہوتے ہیں
Monday, November 25, 2019
رابطے بھی رکھتا ہوں راستے بھی رکھتا ہوں
لوگوں سے بھی ملتا ہوں فاصلے بھی رکھتا ہوں
غم نہیں ہوں کرتا اب، چھوڑ جانے والوں کا
توڑ کر تعلق میں، در کھلے بھی رکھتا ہوں
موسموں کی گردش سے میں ہوں اب نکل آیا
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا ہوں
خود کو ہے اگر بدلا وقت کے مطابق تو
وقت کو بدلنے کے حوصلے بھی رکھتا ہوں
بھر کے بھول جاتے ہیں گھاؤ فکر ہے مجھ کو
زخم کچھ پرانے سو ان سلے بھی رکھتا ہوں
گو کسی بھی منزل کی اب نہیں طلب مجھ کو
ہر گھڑی میں پیروں میں، آبلے بھی رکھتا ہوں
مانتا ہوں ابرک میں، بات یار لوگوں کی
سوچ کے مگر اپنے، زاویے بھی رکھتا ہوں
Urdu Poetry
بخش دیتا ہے وہ خطاؤں کو
ہاتھ اٹھتے ہیں جب دعاؤں کو
دل سے گرتا ہوں جب میں سجدوں میں
دور کرتا ہے سب بلاؤں کو
میں پرندہ ہوں تھک بھی جاتا ہوں
پر لگاتا ہے وہ فضاؤں کو
یہ عطا ہے, یہ اُس کی رحمت ہے
میں مُسخّر کروں خلاؤں کو
وقت کی سختیوں کو ٹالے وہ
وہی لاتا ہے دھوپ چھاؤں کو
بس اک اللہ ہمیں بہت کافی
توڑ باقی سبھی خداؤں کو
کبھی دے کے مجھے، کبھی لے کر
وہ پرکھتا مری وفاؤں کو
سوچ ماتھے پہ وہ اگر لکھ دے
کون پوچھے گا پارساؤں کو
ایک یہ معجزہ ہی کیا کم ہے
وہ ملاتا ہے ہمنواؤں کو
سب تکبّر، غرور چھین مرا
اور مٹا دے سبھی اناؤں کو
ایک اللہ نہ گر سنے ابرک
کون سنتا ہے ہم گداؤں کو
Subscribe to:
Posts (Atom)
